منگلورو، 20؍اگست (ایس او نیوز) منگلورو ائیر پورٹ پر بم رکھے جانے کے سلسلے میں پولیس کو گمنام فون کر کے دہشت پھیلا نے، پولیس اور ائیر پورٹ عملہ جات کو خوفزدہ کر کے انتشار پھیلا نے والے ملزم کو کسی تنظیم یا گرو سے جوڑے بغیر گرفتار کر کے منگلورو پولیس اور گودی میڈیا یہ خبر دے رہی ہے کہ گرفتار شخص نے سستی شہرت پانے کیلئے یہ حرکت کی تھی ۔
تعجب ہے کہ پولیس ایک خاص تنظیم سے گہرے مراسم رکھنے والا کوئی شخص پکڑا جاتا ہے تو اسے یا تو شراب کے نشہ میں کی گئی حرکت قرار دیتی ہے یا پھر اسے ذہنی مریض یا جنونی قرار دیکر کہیں دبا دیتی ہے اور اس پر واویلا مچایا نہیں جاتا ۔
بنگلورو کے ڈی جے ہلی تشدد کے سلسلے میں پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی کا نام لینے کے دوسرے ہی دن چکمگلورو ضلع کے سرینگری ٹاؤن میں مٹھ کے سامنے والے مجسمہ پر پرانا ایس ڈی پی آئی کا بینر ڈالے جانے والے معاملہ واویلا مچایا گیا کہ ایس ڈی پی آئی نے یہ شرارت کی ہے لیکن جب سنگھ پریوار سے تعلق رکھنے والا شخص سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار ہوا توا سے شرابی قرار دیا گیا اور اسے آزاد چھوڑ دیا گیا ۔
اب منگلوروائیر پورٹ پر بم رکھنے کے سلسلے میں پولیس کو فون کرنے والے کی گرفتاری کے بعد صرف یہ کہا جارہا ہے کہ اس نے شہرت حاصل کرنے کیلئے یہ حرکت کی تھی ۔منگلورو ائیر پورٹ پر اس سے قبل دھماکہ کواشیاء رکھنے پر پکڑے جانے والے سنگھ پریوار کے آدتیہ ناتھ کے معاملہ کو بھی اسی طرح دبا دیا گیا تھا۔پولیس نے اس ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد بھی یہ کہا ہے کہ وسنت کرشنا شیری گار نامی اس شخص نے شہرت حاصل کرنے کیلئے پولیس کو گمراہ کن فون کیا تھا۔
پولیس نے بتایا ہے کہ 33 سالہ اُڈپی ضلع کارکلا کے رہنے والے وسنت کو عدالت میں حاضر کردیا گیا ہے۔ اس کی کووڈ۔19 جانچ کروانے کے بعد پولیس اسے حراست میں لے گی اور اس سے مزید پوچھ تاچھ کرے گی۔ گرفتار ملزم 4 سال تک بنگلورو کے ایک ہوٹل میں ملازمت کررہا تھا ۔ پھر اُڈپی آکر وہاں کے ہوٹل میں ملازمت حاصل کی تھی۔ لیکن لاک ڈاؤن میں ہوٹل بند ہونے پر گھر پر تھا۔ اس نے گوگل سرچ کے ذریعہ پولیس افسر واسودیو کا موبائل نمبر حاصل کر کے انہیں فون کیا تھا اور بم رکھے جانے کی اطلاع دی تھی۔ اس سلسلے میں میڈیا اور پولیس نے مزید کچھ انکشاف کے خبر کو دبا دینے کی کوشش کی ہے۔